منڈی بہاوالدین پولیس نے غریب کے گھر کا واحد راستہ بند کروا دیا

edited August 20 in Siasat Mandi Bahauddin

منڈی بہاؤالدین (بیورو رپورٹ)جشن آزادی پر منڈی بہاؤالدین میں پولیس تھانہ سول لائن کے خلاف ضابطہ ایکشن پر غریب وطن پہ عرصہ حیات تنگ کر دیاگیا۔گھر کا واحد راستہ پولیس سول لائن منڈی بہاؤالدین نے بند کروا دیا ۔ معصوم اور بیمار بچے پورے 32 گھنٹے قید جناب سیشن جج منڈی بہاؤالدین کے حکم سے سیڑھی لگا کر بیلف نے معصوم بچوں کو بازیاب کروایا۔ جناب ایڈیشنل سیشن جج منڈی بہاؤالدین کا ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کو اس خلاف ضابطہ کاروائی پر کاروائی کا حکم ۔ متاثرہ شخص کی وکلا کے ساتھ ڈی پی او کو عرضداشت بمطابق فیصلہ جناب ایڈیشنل سیشن جج۔ ضلعی پولیس آفیسر کا کاروائی کرنے سے معذرت ۔پولیس کی اس سراسر انسانی حقوق کی تذلیل پر ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن پاکستان کی مذمت ۔ سوموار کو ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن کے سینئر وکلا اور پنجاب کے عہدیداروں کا ہنگامی اجلاس لاہور میں طلب ۔ انسانی حقوق کی اس سنگین ترین خلاف ورزی پر بھر پور آواز اٹھائیں گے ۔ چیئرمین ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن پاکستان ۔ ملک کے حالیہ یوم آزادی پر منڈی بہاؤالدین تھانہ سول لائن کے علاقے میں ایک غریب وطن شخص کے گھر کے واحد راستہ کو تھانہ سول لائن پولیس منڈی بہاؤالدین کے اے ایس آئی قمر عباس اور دیگر اہل کاروں نے اپنے اعلی حکام کے احکامات کی روشنی میں بند کردیا ۔اس موقع پر ستم رسیدہ شخص نے پولیس آفیسر مذکور کو منڈی بہاؤالدین کی معزز عدالت کا سٹے آرڈر بھی دکھایا لیکن پولیس آفیسر مذکور نے انصاف اور قانون کے ضابطوں کو پامال کرتے ہوے ۔ مذکور شخص کے گھر کے سامنے دیوار بنا دی ۔اور ان معصوم بچوں کے گھر کا واحد راستہ بند کردیا ۔ یاد رہے کہ پولیس کے پاس اس ضمن میں کوئی تحریری عدالتی یا اپنے افسران کا کوئی حکم موجود نہ تھا ۔ دوسرے دن متاثرہ شخض نے بعدالت جناب ایڈیشنل سیشن جج منڈی بہاؤالدین رٹ پٹیشن کی جس پر اسی پولیس آفیسر نے معزز عدالت کو رپورٹ دی کہ درخواست دہندہ جھوٹا ہے اس کے بچے محبوس نہیں ۔ اس رپورٹ پر درخواست دہندہ کی درخواست پر معزز عدالت نے اپنے عدالتی بیلف کا تقرر فرمایا ۔ جس نے بہت بڑی سیڑھی لگا کر ان معصوم بچوں 1۔سویرا فرحت عمر 13 سال 2۔محب اللہ عمر 10 سال 3۔عبدالحسیب عمر 7 سال 4۔ امیر حمزہ عمر 5 سال 5 ۔علیشا نور عمر 1 سال اور سعدیہ اشرف والدہ محبوسان کو بازیاب کروایا ۔ اس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج منڈی بہاؤالدین نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ قمر عباس اے ایس آئی عدالتی احکامات کی پاسداری اور محبوسان کی بازیابی میں ناکام رہا ۔ متعلقہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کو ہدائت کی کہ مذکور پولیس آفیسر اور دیگران کے خلاف حسب ضابطہ کاروائی عمل میں لاکر عدالت کو مطلع کیا جائے ۔ اس کے بعد متاثرہ شخص اپنے وکلا کے ساتھ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کو ملا تو وہ کاروائی سے گریزاں ہوے۔

پولیس سول لائن منڈی بہاؤالدین کی یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تذلیل قابل مذمت ہے اور ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن پاکستان اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے ۔اسی ضمن میں سوموار کو ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن کے سینئر وکلا اور اور ممتاز قانون دان میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ لاہور ہائیکورٹ کی سربراہی میں ایک ہنگامی میٹنگ کا اعلان کردیا ہے ۔جس میں اس صورت حال سے نپٹنے کے لیے اور بھر پور انداز میں اس کو اعلی عدلیہ تک لے جانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا ۔ اس المیہ پر ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن کے چیئرمین محمد یوسف بدر نے کہا ہے کہ پولیس نے جب یہ راستہ دھونس دھاندلی سے بند کروایا تو اس کے پاس کوئی عدالتی حکم موجود نہ تھا جبکہ اس شخص کے پاس عدالتی سٹے آرڈر موجود تھا ۔ یہ خلاف ضابطہ کاروائی قابل مذمت ہے اور انتہائی معصوم بچوں کو 32 گھنٹے قید اور بنیادی ترین انسانی حقوق سے محروم رکھنا دیدہ دانستہ جنگل کے قانون کی شکل ہے ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں ہو ہیومن رائٹس پروٹیکشن فاونڈیشن پاکستان اس کی مذمت کرتی ہے ۔ اس واقعہ کی اعلی سطحی انکوائری عمل میں لائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف ضابطہ اقدام کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ اور اس شخص کے گھر کے واحد راستہ کو بحال کیا جائے ۔گزشتہ شام ان معصوم بچوں کے والد کو سول لائن پولیس نے من گھڑت درخواست بنوا کر پورے چار گھنٹے تھانہ سول لائن حوالات میں بند رکھا ۔ سماجی تنظیموں کی مداخلت پر اس شخص کو رہا کیا گیا ۔

( تمام تصویریں اور عدالتی احکامات منسلک ہیں )

Sign In or Register to comment.